zahara hamada

سعودی دو شیزہ نے میڈیا اور ٹیلی کام میں تعلیم حاصل کرکے گاڑیوں کی تزئین کا پیشہ اپنا لیا

سعودی عرب میں ایک دوشیزہ نے میڈیا اور ٹیلی کام کے شعبے میں گریجوایشن کرنے کے باوجود ایک ایسا پیشہ اختیار کیا ہے جسے آج تک مملکت میں مردوں کا کام سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اس نے یہ دیوار گرا کر ثابت کیا ہے کہ سعودی عرب کی خواتین کسی بھی میدان میں کام کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔

مشرقی سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی زہرا حمادہ نے کہا کہ وہ شروع میں گھر میں موجود اپنے بھائیوں کی گاڑیوں کو آراستہ کرتی اور انہیں چمکانے کے لیے پالش کرتی مگر جلد ہی اس نے اس کام کو اپنا پیشہ بنا لیا اور عام گاڑیوں کی تزئین وآرائش شروع کر دی۔ یہ ایک منفرد تجربہ تھا اور مجھے بہت پسند بھی آیا۔


انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کئی مختلف شعبوں میں اپنے کام کا تجربہ کیا۔ مگر میں‌ نے گاڑیوں کی تزئین و آرائش کو لڑکیوں‌ کے لیے ایک متبادل پیشے کے طور پر ابنانے کا تجربہ کرکے لڑکیوں کے لیے روزگار کا موقع تلاش کیا ہے۔ اس سے ملک میں گاڑیوں کی تزئین و آرائش کے میدان میں خواتین کے لیے کام کرنے کا ماحول پیدا ہو گا۔


حمادہ نے بتایا کہ میں نے کرونا بحران کے آغاز میں گاڑیوں کی تزئین وآرائش کاکام شروع کیا۔اس کام کے لیے مجھے ایک کمپنی کی طرف سے بھی معاونت حاصل رہی ہے۔ میں نے یہ پیشہ اختیار کرکے حکومت کے لیے ایک پروگرام تیار کیا ہے۔ امید ہے کہ میرا اختیار کردہ پیشہ حکومت کے لیے خواتین کی خاطر ایک نیا پروگرام شروع کرنے کی راہ ہموار کرے۔


(Visited 6 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں