sixth-generation-fighter-aircraft

لیزر ہتھیار سے لیس ’’چھٹی نسل‘‘ کا لڑاکا طیارہ؟

خطرناک لیزر شعاعیں برسا کر دشمن کو تباہ کرتے ہوئے لڑاکا طیارے اب تک سائنس فکشن فلموں کا حصہ رہے ہیں لیکن لڑاکا طیارے اور مختلف جنگی ہتھیار بنانے والا امریکی ادارہ ’’لاک ہِیڈ مارٹن‘‘ آئندہ چند برسوں میں اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی جریدے ’’ڈیفنس نیوز‘‘ کے مطابق، لاک ہیڈ مارٹن میں ایسے طاقتور لیکن مختصر لیزر ہتھیاروں پر کام جاری ہے جو بہ آسانی کسی لڑاکا طیارے میں نصب کئے جاسکیں گے۔ تاہم، یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ لڑاکا طیارے کیلئے ایسا لیزر ہتھیار تیار کرنے کا حکم ’’پنٹاگون‘‘ کی طرف سے آیا ہے یا یہ فیصلہ خود لاک ہیڈ مارٹن نے کیا ہے۔ اگرچہ پنٹاگون پچھلے چند سال سے یہ عندیہ دیتا آرہا ہے کہ امریکی فضائیہ کو اپنی عسکری برتری برقرار رکھنے کیلئے کسی نئے اور ’’چھٹی نسل کے‘‘ لڑاکا طیارے کی ضرورت ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی فضائیہ کے حالات کو کسی بھی طور پر قابلِ تعریف یا امید افزاء نہیں کہا جاسکتا۔

اس ابہام کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک امریکی فضائیہ کے پاس ایسا کوئی لڑاکا طیارہ موجود نہیں جس میں بطورِ خاص لیزر ہتھیار نصب کرنے کیلئے مخصوص جگہ (پورٹ) موجود ہو۔ البتہ، تکنیکی طور پر یہ کام موجودہ ایف 35 لڑاکا طیاروں میں ردّ و بدل سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو اس طرح وجود میں آنے والا ہوائی جہاز بجا طور پر ’’چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ‘‘ قرار دیا جاسکے گا کیونکہ اسے موجودہ (یعنی پانچویں نسل کے) لڑاکا طیاروں پر واضح برتری حاصل ہوگی۔

بتاتے چلیں کہ لاک ہیڈ مارٹن نے جنگی بحری جہازوں کیلئے ’’ہیلیوس‘‘ (HELIOS) کے نام سے ایک طاقتور لیزر ہتھیار بنالیا ہے جو گائیڈڈ میزائلوں کو راستے ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ متوقع طور پر اس میزائل شکن لیزر نظام کی تنصیب 2021ء سے شروع کردی جائے گی۔ لاک ہیڈ مارٹن میں اس ہتھیار کو اس حد تک مختصر کرنے پر کام بھی جاری ہے کہ یہ کسی لڑاکا طیارے میں بھی سما سکے۔

لیزر ہتھیار سے لیس لڑاکا طیارہ، امریکی فضائیہ کی برتری کو مزید مستحکم کرے گا کیونکہ یہ نہ صرف انتہائی درست بلکہ اتنا تیز رفتار بھی ہوگا کہ اس سے بچ کر بھاگنا تقریباً ناممکن ہی ہوگا۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود، یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ طاقتور لیزر کو بہت زیادہ توانائی کی ضرورت بھی پڑے گی، جو فی الحال کسی بھی لڑاکا طیارے میں میسر نہیں۔

ہوسکتا ہے کہ یہ خبر آپ کو ’’دور کی کوڑی‘‘ لگی ہو لیکن اگر ہم امریکی افواج اور پنٹاگون کا مخصوص چلن دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ میڈیا میں اس طرح کی خبریں تب ہی جاری کروائی جاتی ہیں جب درونِ خانہ یعنی ’’سات پردوں کے پیچھے‘‘ کچھ نہ کچھ اہم پیش رفت ضرور کی جاچکی ہو۔ اس لئے کم از کم اتنا تو ضرور طے ہے کہ طاقتور لیزر کو مختصر کرنے پر کام تو جاری ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اسے کسی موجودہ یا نئے لڑاکا طیارے پر کب اور کیسے نصب کیا جائے گا۔

(Visited 13 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں