changes in the Earth's magnetic field

زمین کے مقناطیسی میدان میں پراسرار تبدیلیاں

زمین کا مقناطیسی میدان ہمیں خلاء سے آنے والی بہت سی خطرناک ریڈیائی لہروں سے بچاتا ہے۔
زمینی مقناطیسی مقناطیسی میدان میں گزشتہ کچھ عرصے سے غیرمعمولی اور پراسرار تبدیلیاں محسوس کی جارہی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق زمین کا مقناطیسی میدان مسلسل کمزور ہوتا جارہا ہے؛ اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو زمین کے قطبین پلٹا کھا سکتے ہیں جیسا کہ تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار سال پہلے ہوا تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق، اگر ایسا ہوا تو زمین کیلئے ڈھال کا کام کرنے والی برقی مقناطیسی قوت اپنا اثر کھو دے گی اور خلاء اور سورج سے زمین کی طرف آنے والی تابکار شعاعوں کو روک نہیں پائے گی۔ اس کے نتیجے میں ہمارے بیشتر برقی و مقناطیسی آلات، خاص کر مواصلاتی آلات، ناکارہ ہوسکتے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر دیگر نقصانات کا بھی خدشہ ہے۔

دنیا بھر کے سائنسدانوں کو پریشان کرنے والے اس معمے کو جنوبی اوقیانوسی بے قاعدگی (South Atlantic Anomaly) کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں براعظم جنوبی امریکہ کے ملک چلی سے لے کر افریقی ملک زمبابوے تک کے علاقے کو سب سے کمزور مقناطیسی میدان کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ اس علاقے سے گزرنے والے خلائی سیارچوں کو شدید تابکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جاپان کا تیار کردہ، ایکسریز کا مشاہدہ کرنے والا طاقتور سیارچہ اسی علاقے سے سفر کرتے ہوئے تباہ ہوا تھا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کا بھی کہنا ہے کہ اس علاقے سے گزرتے ہوئے خلائی شٹل کے لیپ ٹاپس کریش کر جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، خلائی سیارچوں میں نصب آلات بھی درست طور پر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ نیز افق پر دکھائی دینے والی پراسرار قطبی روشنیاں (آرورا) بھی پہلے کی بہ نسبت صاف اور واضح دکھائی دینے لگی ہیں جو کمزور مقناطیسی میدان کی نشانی ہے۔

روچیسٹر یونیورسٹی، امریکہ سے منسلک ماہر ارضیات ڈاکٹر جان ٹارڈینو اس پراسرار معمے کا حل تاریخی تناظر میں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے مالی سرپرستی اور ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔ ڈاکٹر جان اور ماہرین آثاریات پر مشتمل اس ٹیم کو جنوبی افریقہ میں موجود تاریخی اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے پر کچھ دلچسپ حقائق معلوم ہوئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جنوبی افریقہ میں بسنے والے بانتو قبائل صدیوں سے زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ دراصل یہ دنیا کے سب سے پہلے لوگ ہیں جنہوں نے زراعت کو بطور پیشہ اپنایا۔ ان لوگوں میں یہ روایت ہے کہ جب کبھی خشک سالی آئے تو یہ کسی روحانی رسم کے طور پر اپنے گاؤں کو جلا دیتے ہیں اور پھر سے نئے گاؤں آباد کرتے ہیں۔ چونکہ بانتو لوگ اپنے مکان ایک مخصوص مقامی مٹی سے تیار کرتے ہیں جس میں مقناطیسی معدنیات ہوتی ہیں، اس لئے اس مٹی سے تیار کئے گئے ڈھانچوں کے تپنے اور ٹھنڈا ہونے پر یہ اردگرد موجود زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ ’’ٹائم کیپسیول‘‘ کی پُرکار سوئیوں کی طرح کام کرتے ہیں اور ان کی مدد سے ہم مقناطیسی میدان کی پوری تاریخ کے متعلق جان سکتے ہیں۔

منصوبے پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق، ان علاقوں کا تفصیلی جائزہ لینے پر معلوم ہوا ہے کہ زمین کا مقناطیسی میدان اقساط کی شکل میں مسلسل انحطاط کا شکار ہے؛ اور زمین کے بیرونی مدار پر مشتمل تہہ میں خلاف توقع مزاحمت پیدا ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے تفصیلی تجزیئے سے معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال عین مقناطیسی میدان کے الٹاؤ سے پہلے کی ہے۔ یعنی کسی بھی وقت زمین کے قطبین آپس میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ البتہ، اگر یہ عمل بہت تیز رفتار بھی ہوا تو اس میں کم از کم ایک ہزار سال لگ جائیں گے؛ یعنی فوری پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

ڈاکٹر جان کہتے ہیں کہ اگر زمین کے مقناطیسی قطبین کا مکمل طور پر گھماؤ نہ بھی ہوا تب بھی ہمارے معاشرے پر اس کے بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ سورج سے اٹھنے والے شمسی طوفان اور خلاء سے آنے والی تابکار شعاعیں ہمارے تمام جدید آلات کو ناکارہ کر دیں گی؛ اور سورج سے آنے والی بالائے بنفشی شعاعوں کی وجہ سے انسانیت مکمل طور پر غیرمحفوظ ہو جائے گی۔ اور یہ کسی بھی وقت ممکن ہے۔

(Visited 4 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں