’بیلن ڈی اور‘ ایوارڈ نہ دینے کا اعلان

کورونا وائرس کی وبا کے باعث فٹبال کی سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے سال کے سب سے بڑے اور معتبر فٹبال کے ایوارڈ ’بیلن ڈی اور ‘کو رواں سال نہ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

کورونا کے باعث’بیلن ڈی اور‘ ایوارڈ نہ دینے کا اعلان
فرانس فٹبال میگزین کی جانب سے دیے جانے والے ایوارڈ ‘بیلن ڈی اور کو 1956 میں اسٹینلے میوتھیوز کو پہلی مرتبہ دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے ہر سال اسے بہترین فٹبالرز کو دیا جاتا ہے۔

اب تک ارجنٹائن کے لیونل میسی ریکارڈ چھ مرتبہ یہ ایوارڈ جیت چکے ہیں جبکہ ان کے روایتی حریف کرسٹیانو رونالڈو نے پانچ مرتبہ یہ ایوارڈ اپنے نام کیا ہے۔

فرانس فٹبال کے ایڈیٹر پاسکل فیر نےکہا کہ ایک عجیب سال رہا ہے جسے ہم ایک عام سال کی طرح نہیں دیکھ سکتے اور ہم نے دو ماہ قبل ہی فیصلے لینا شروع کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس فیصلے کو آسان تصور کر کے نہیں لیا لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس سال ‘بیلن ڈی اور’ کا کوئی فاتح نہیں ہو گا کیونکہ یہ ایوارڈ شفاف طریقے سے نہیں دیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وبا کی وجہ سے کھیل کے قوانین بدل چکے ہیں لہٰذا ایوارڈ بھی متاثر ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

حمزہ اکبر ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں شرکت سے محروم

پاکستان کے ٹاپ پروفیشنل اسنوکر پلیئر حمزہ اکبر ویزا مسائل کی وجہ سے ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں شرکت سے محروم ہوگئے ہیں، انہیں کل اپنا پہلا میچ کھیلنا تھا لیکن ویزا نہ ملنے کے سبب وہ چیمپئن شپ سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوگئے۔

پاکستان کے 27 سالہ پروفیشنل اسنوکر پلیئر کو ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کے کوالیفائرز میں شرکت کرنا تھی، شیفلڈ میں ہونیوالے ایونٹ میں حمزہ اکبر کو پہلا میچ مراکش کے امین امیری کیخلاف کھیلنا تھا اور اس میچ میں شرکت یقینی بنانے کیلئے انہیں منگل کو انگلینڈ پہنچنا تھا۔ تاہم ویزا نہ ملنے کے سبب انہیں ایونٹ سےدستبردار ہونا پڑا۔

حمزہ اکبر کو گزشتہ برس کیو اسکول میں آٹھویں پوزیشن حاصل کرنے کی وجہ سے ورلڈ چیمپئن شپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ کوالیفائی کرنے کی صورت میں وہ 31 جولائی سے مین راؤنڈ میں شرکت کرتے۔

ورلڈ اسنوکر ٹور اور ورلڈ پروفیشنل بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حمزہ اکبر کے ویزا کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔

(Visited 33 times, 1 visits today)

اپنا تبصرہ بھیجیں